Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30جون2000
مشہور مغرالزھشری (وفات538ھ) نے اپنی مشہور تفسیر الکستان میں حقائق التنزیل کی تصنیف کی تو ان کے خط میں لکھا ’’الحمدللہ الوی خلق القرآن‘‘ ان سے کہا گیا کہ لوگ اس تفسیر کو پسند نہیں کریں گے۔ کیوں کہ آپ نے شروع ہی میں ’’خلق‘‘ کے لفظ سے اپنے معتزل عقیدہ کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے تبدیل کرکے ’’جعل‘‘ لکھ دیا اور وہ بھی ان کے نزدیک ’’خلق‘‘ کا مترادف ہے۔
عام علماء امت کے نزدیک خلق القرآن کا جعل القرآن کہنا بہت گمراہی کی بات ہے۔ عام علماء اس کے بجائے انزل القرآن لکھیں گے۔ الزحشری معتزلی تھا اور اپنے فنڈال کو چھاتانہیں تھا۔ وہ غیر معتزل علماء پر سخت تنقید کرتا تھا۔ وہ جب کسی سے ملنے کے لیے جاتا تو ملازم سے کہتا کہ اپنے مالک سے جاکر کہو کہ ابوالقاسم معتزلی ملاقات کے لیے آیا ہے۔ اس کے باوجود الزحشری امت میں مقبول رہا۔ دوسرے تمام معتزلی علماء کی کتابیں شائع کردی گئیں مگر الزحشری کی کتابیں باقی رہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ الزحشری ایک غیر معمولی ذہن اور غیر معمولی عالم تھا۔ اس کے اس امتیاز نے اس کو باقی رکھا۔