Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
7نومبر2000
ایک مجلس میں لوگوں نے اقلیت اور اکثریت کے کچھ واقعات کا ذکرکیا۔ اس کے بعد میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں اقلیتی فرقہ اور اکثریتی فرقہ کے درمیان جو فرق نظرآتا ہے وہ زیادہ تر کلچر کا فرق ہے۔ جہاں تک اصل حقیقت کا تعلق ہے دونوں کے درمیان بہت زیادہ فرق نہیں۔
مد اور عالم کی گہری معرفت یہ ایک کو حاصل ہے اور نہ دوسرے کو۔ عبادت دونوں کے یہاں بس ظاہری رسم بن کر رہ گئی ہے جس کی اصل اسپرٹ غائب ہے۔ دونوں کے یہاں اخلاق کے نام سے صرف کچھ سوشل مینرس (Social Manners)پائے جاتے ہیں۔ دونوں ہی کا سب سے بڑا کنسرن (Concern)صرف ایک ہے اور وہ مال ہے۔ دونوں کے یہاں ان کی اولاد نے گویا معبود کا درجہ حاصل کرلیا ہے۔ خودغرض، بے انصافی، َم، حسد، حرص، اللہ سے بے خوفی، غضب، بددیانتی، خویش پرستی، مصلحت پسندی، استحصال، بہتان طرازی، جھوٹی نمائش، بدعہدی، کذب بیانی، غیبت، غرض ہر قابل قیاس اور ناقابل سیاس برائی دونوں فرقوں کے یہاں یکساں طور پر موجود ہے۔
اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ تو شاید وہ زیادہ مبالغہ نہیں کرے گا کہ اللہ کے یہاں غالباً دونوں ہی قابل رد ہیں۔ ایک گروہ اگر اخلاقی معیار پر ردہو رہا ہے تو دوسرا گروہ اخلاقی اور شرعی دونوں معیار پر۔