Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
25جون2000
مرزا طہما سب بیگ کراچی میں رہتے ہیں (Tel. 92-21-4989002)وہ ایک بڑے تاجر ہیں۔ آج ان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھ بڑے پیمانہ پر ایک قرآنی تحریک چلا رہے ہیں۔ وہ قرآن کے ترجموں کے کیسٹ مختلف زبان میں تیار کرکے لوگوں کو دیتے ہیں تاکہ وہ کارمیں سفر کرتے ہوئے ان کو سن سکیں۔
میں نے کہا کہ اصل مسئلہ قرآن کا ترجمہ پھیلانے کا نہیں ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ قرآن کا ترجمہ بہت بڑے پیمانے پر پھیلانے کے باوجود مطلوب نتیجہ کیوں نہیں نکلا۔ برصغیر ہند میں غالباً شاہ ولی اللہ دہلوی پہلے شخص تھے جنہوں نے قرآن کا ترجمہ فارسی زبان میں کیا۔ اس کے بعد اردوزبان میں قرآن کے بہت سے ترجمے کئے گیے۔ اسی طرح انگریزی فرانسیسی اور دوسری اکثر زبانوں میں قرآن کے ترجمے کئے گیے۔ ان ترجموں کو پڑھ کر بہت سے غیرمسلموں نے اسلام قبول کیا۔ مگر جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ان میں کوئی قرآنی زندگی پیدا نہ ہوسکی۔ مزید یہ کہ عرب قوموں کے لیے تو ترجمہ کے ضرورت ہی نہیں۔ وہ براہ راست قرآن کو پڑھتے ہیں۔ اس کے باوجود عربوں میں بھی حقیقی قرآنی زندگی کا اسی طرح فقدان ہے جس طرح غیر عرب قوموں میں۔
اس طرح سے میں یہ سمجھاہوں کہ صرف قرآن کا ترجمہ پھیلانے سے مسلمانوں میں کوئی بڑی اصلاح نہیں ہوسکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن انسانی طرز کی کتاب نہیں۔ وہ مختلف ہدایات کا مجموعہ ہے جو حالات کی نسبت سے مختلف مواقع پراتاری گی ہے۔ قرآن کی ایسی مخصوص نوعیت کی بنا پر قرآن سے نتیجہ خیز ہدایت لینے کے لیے قرآن کا انٹرپرٹیشن (Interpretation)ضروری ہوجاتا ہے۔ یعنی قرآن اور حالات دونوں کا گہرا مطالعہ کرکے یہ جاننا کہ کسی مخصوص حالات میں قرآن کا کون سا حصہ قابل انتباق (Applicable)ہے۔ اور کون سا نہیں۔ اس کے بغیر یہ ہوگا کہ حالات کے لحاظ سے قرآن کی صبر کی آیتیں قابل انتباق ہوں گی اور لوگ قتال کی آیتوں کو لے کر پرجوش تقریر شروع کردیں گے۔
حضرت علی نے اپنے زمانہ ٔ خلافت میں ایک بار دیکھا کہ ایک شخص لوگوں کو جمع کرکے ان کے سامنے قرآن پر تقریر کررہا ہے۔ اس کے بعد دونوں میں تو مکالمہ ہوا وہ یہ تھا: قال حل تعلم الناسخ من المنسوخ ۔ قال۔ لا قال: ھلکت واضللت۔