Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
14نومبر2000
آج صبح کو بی بی لندن سے ان کا پروگرام ورلڈنیوز سن رہا تھا۔ اس میں فلسطین کی تاری رپورٹ بھی شامل تھی۔ انہوں نے ٹیپ کی انداز میں سنائی۔ اس میں فلسطینی نوجوان نعرے لگا رہے تھے۔ نعرہ یہ تھا : دمہ دمہ تل ابیب، دمہ دمہ تل ابیب (تل ابیب کو تباہ کردو، تل ابیب کو تباہ کردو)
میں نے سوچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف گئے۔ طائف کے لوگوں نے آپ کی نعوذ باللہ تذلیل کی۔ آپ پرپتھرمارے۔یہاں تک کہ آپ کا کپڑا خون آور ہوگیا۔ مگر آپ کی زبان پر یہ الفاظ نہیں آئے کہ دمہ دمہ طائف، دمہ دمہ طائف، بلکہ برعکس محمد پر یہ ہوا کہ طائف کی اس سرکشی پر اس کی تدبیر کے لیے اللہ تعالیٰ نے ملکۃ الجبال (پہاڑوں کے فرشتہ) کو بھیجا۔ اس نے آپ سے مل کرکہا کہ اگر آپ حکم دیں تو میں طائف کو دو پہاڑوں کے درمیان دباکرتباہ کردوں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کردیا اور اہل طائف کی ہدایت کے لیے دعا کی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جہاد نے آپ کا دل میں خیرخواہی کا جذبہ پیدا کردیا تھا۔ آپ لوگوں کی ہدایت کے حریص بن گئے تھے۔ حتیٰ کہ اپنے دشمنوں کے لیے بھی آپ نیک دعائیں کرتے تھے۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے ایک ایسا جہاد دریافت کیا ہے جو ان کو انسانوں سے نفرت کرنا سکھاتاہے۔ جو ان کو انسانوں کے خلاف تشدد پر اکساتا ہے۔ جو ان کو قوموں کی تدبیر کرنا سکھاتا ہے۔ کیسا عجیب فرق ہے ہمارے پیغمبر کے رسوم میں اور موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے اسلام میں۔