Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
11جنوری2000
کوکب الباری ندوی (پیدائش1980)اسی سال ندوۃالعلماء لکھنؤ سے فارغ ہوئے ہیں ان سے میں نے پوچھا کہ آپ پانچ سال ندوہ میں رہے ہیں ۔ آپ نے حضرت مولانا علی میاں ندوہ (وفات31دسمبر1996)کی بہت سی باتیں سنی ہونگی ان کی کوئی خاص نصیحت بتائیے۔ کوکب ندوی نے کہا کہ حضرت مولانا یہ فرمایا کرتے تھے ’’ عربی زبان زبان میں مہارت پیدا کیجئے اور پھر لوگوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلائیے‘‘۔
میں نے کہا کہ سارے عرب عربی زبان جانتے ہیں۔ وہ قرآن و حدیث کو پڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ عربوں میں سیکڑوں لوگ پیدا ہوئے جو انہیں، علی میاں کے الفاظ میں، ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلاتے رہے۔ عبدالوہاب نجومی سے لے کر حسن النااور سید قطب تک کتنے بڑے بڑے لوگ یہی کام کرتے رہے۔ خود مولانا علی میاں نے زندگی بھر یہی کام کیا۔ پھر انہیں بھولا ہوا سبق یاد کیوں نہیں آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بھولا ہوا سبق یاد دلانے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یاد دلانے کے باوجود انہیں ان کا بھولاہوا سبق یاد نہیں آیا۔ پھر میں نے کہا کہ یہ سبق بھولنے کی بات نہیں ہے بلکہ قومی زوال کی بات ہے۔ عرب اور دوسرے مسلمان اس وقت زوال کی نفسیات کا شکار ہوچکے ہیں۔ ایسی حالت میں نہ تبلیغی جماعت کی فضائل خوانی انہیں دوبارہ جگاسکتی ہے اور نہ مولانا علی میاں کی پرجوش تقریریں۔ ان کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے زیادہ گہرے اور منصوبہ بند کام کی ضرورت ہے۔