Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
13فروری2000
ایک ندوی عالم جو دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤمیں سینئر استاد ہیں۔ وہ سعودی عرب کے لیے وہاں انہوں نے ایک بیان دیا جو ریاض کے عربی اخبار العالم الاسلامی میں چھپا۔ اس کی سرخی جلی حرفوں میں یہ تھی: مسلم الوند بین فکی الرجی(ہندوستان کے مسلمان چکی دوپاٹوں کے درمیان ہیں) ان کے نزدیک ظلم کی اسی چکی کا ایک پاٹ آزادی کے بعد بننے والی ہندوحکومت تھی اور اس کا دوسرا پاٹ ملک کی ہندواکثریت۔ میرے نزدیک یہ ایک لغوبات ہے۔ جس کا حقیقت واقعہ سے کوئی تعلق نہی۔ یہ صحیح ہے کہ ہندوستان کے مسلمان چکی کے دوپاٹوں کے درمیان ہیں۔ مگر یہ دونوں پاٹ اپنی نوعیت کے اعتبار سے داخلی ہیں نہ کہ خارجی۔ اس چکی کا ایک پاٹ خود مسلمانوں کی نا اہل قیادت ہے ، اور اس کا دوسرا پاٹ مسلم عوام کی یہ سٹوری۔ دراصل یہی دو پاٹ ہیں جن کے تحت مسلمان1947سے پہلے بھی پِس رہے تھے اور1947کے بعد بھی وہ پِس رہے ہیں۔