Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
♦یکم جنوری2000
کل بیسوی صدی عیسوی کا آخری دن تھا۔ آج اکیسویں صدی کی پہلی تاریخ ہے۔ عجیب بات ہے کہ کل31دسمبر1999کو مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کا86سال کی عمر میں رائے بریلی میں انتقال ہوگیا۔
بیسوی صدی معلم دنیا کے لیے بڑی تاریخی صدی تھی۔ اسی صدی میں مسلم دنیا میں تجدید دین اور احیاء اسلام کے لیے کئی مفکرین اٹھے۔ الجزائر میں مالک بن سنی،(وفات1973) برصغیر ہند میں اقبال (وفات1938)مصر میں سید قطب (وفات1966)، ایران میں آیت اللہ خمینی (وفات1984)ہندوستان میں مولانا ابوالحسن علی ندوی، پاکستان میں ابوالاعلی مودودی (وفات1979) میں بھی اس فہرست میں شمار کیا جاتاہوں۔
اب بیسوی صدی میں ابھرنے والے ان تمام افراد کی وفات ہوچکی ہے۔ اس فہرست کا میں آخری شخص ہوں جو ابھی ز۔دہ ہے اور نئی صدی میں داخل ہورہا ہے۔
دوسری عجیب چیز یہ ہے کہ ان اصحاب سبعہ میں میں غالباً پیدشخص ہوں جس کا مشن انٹرنیٹ اور ویب سائٹ پر آگیا ہے۔ اور جو نئے ذہن کے لوگوں کو تیزی کے ساتھ متوجہ کردہا ہے۔ مولانا عبدالباری ندوی (وفات1976)میرے بارے میں کہتے تھے کہ ’’میرا تو خیال ہے کہ آپ جدید طبقہ کی طرف مبعوث ہیں۔‘‘