Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
28ستمبر2000
مولانا ابو الکلام آزاد نے کانگریس کے اجلاس میں اپناخطبہ صدارت پڑھتے ہوئے کیا تھا: آج اگر ایک فرشتہ آسمان سے اتر آئے اور قطب مینار پر کھڑے ہوکر یہ اعلان کردے کہ سوراج24گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان ہندومسلم اتحاد سے دست بردار ہوجائے تو میں سوراج سے دست بردارہوجاؤں گا۔ مگر ہندومسلم اتحاد سے کبھی دست بردار نہ ہوں گا، کیوں کہ سوراج ملنے میں تاخیر ہوئی تو یہ ہندوستان کا نقصان ہوگا لیکن اگر ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالم انسانیت کا نقصان ہے (خطاب آزاد، مرتبہ مالک رام ساہتیہ اکادمی دہلی ، طبع1990صفحہ205)
اس قسم کی شاندار تقریروں کے باوجود اس ملک میں ہندومسلم اتحاد کیوں نہ ہوسکا اس کے اصل سبب پر غورکیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس معاملہ میں مولانا ابوالکلام آزاد خود اتنا ہی ذمہ دار ہیں جتنا کہ دوسرے بدنام لوگ۔
ہندومسلم اتحاد نہ ہونے کا اصل سبب یہ ہے کہ دونوں قوموں میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے دینی ان قوم کو فخر کی غذادی۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ فخر کا مزاج رکھنے والے لوگ فرد یا قومیں کبھی متحد نہیں ہوسکتے۔ ہندوؤں میںڈاکٹر ہیڈنواز اور گروگولوالکر جیسے لوگوں نے ہندوؤں کے اندر فخر کی نفسیات پیدا کی۔ دوسری طرف ڈاکٹر اقبال اور مولانا ابوالکلام آزادجیسے لوگوں نے مسلمانوں کے لیے فخر کی ذہنیت پیداکی اقبال مولاناآزاد کی اس قسم کی پر فخر باتوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طرف ہندوستان نے یہ نعرہ دیا کہ گرو سے کہو کہ ہم ہندوہیں۔ دوسری طرف کار سے یہ اعزام سنائی دینے ملی کہ فخر سے مسلمان ہیں۔ یہی دور فخر کی نفسیات دونوں قوموں میں اتحاد نہ ہونے کا اصل سبب ہے۔ اتحاد ہمیشہ تواضع کی نفسیات سے پیدا ہوتا ہے، اس کا تواضع کا سبق نہ ہندوؤں کو دیا گیا اور نہ مسلمانوں کو۔