Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
18جولائی2000
عبدالرحمن صاحب نے اپنی ایک واقعہ بتایا۔ الہ آباد بینک میں ایک ہندو آئے انہوں نے بینک سے قرضہ لینے کے لیے درخواست دے رکھی تھی۔ ان کو یہ شکایت تھی کہ لمبی مدت گذرنے کے بعد دفتری کارروائی مکمل نہیں ہوئی اور ان کو قرضہ نہیں ملا۔ آتے ہی انہوں نے تلخ انداز میں بولنا شروع کردیا اور دیر تک اسی طرح بولتے رہے۔ عبدالرحمن صاحب خاموشی کے ساتھ ان کی بات سنتے ہے، آخر میں انہوں نے بالکل نرم اور ٹھنڈے انداز میں کہا: تشریف رکھیئے۔ کیا میں آپ کے لیے ٹھنڈا پانی منگاؤں۔ عبدالرحمن صاحب کا یہ جملہ سنتے ہی ان کا جوش ختم ہوگیا اور وہ معتدل انداز میں بات کرنے لگے۔
جس عرصہ سے اس سوال سے دوچار تھا کہ ہندوستان میں دعوت کے لیے معتدل ماحول کیسے پیدا کیا جائے۔ میرا خیال تھا کہ جب تک ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان موجودہ نفرت اور کشیدگی ختم نہ ہو اس وقت تک یہاں دعوت کے مواقعہ پیدا نہیں ہوسکتے۔ مگر عبدالرحمن صاحب کے تجربات میں مجھے اس سوال کا ایک قابل عمل جواب نظر آتا ہے۔
عبدالرحمن صاحب کے اس طریقہ کو میں رحمن فارمولا کہتا ہوں یعنی فریق ثانی خواہ کتنی ہی شدت میں ہو، لائٹ موڈ میں اور ٹھنڈے انداز میں اس سے خطاب کرنا اس طرح کم از کم دو افراد دئے درمیان فوراً وہ معتدل فضا قائم ہوجاتی ہے جو دعوتی ڈائلاگ کے لیے ضروری ہے۔ اگر ہم موجودہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے خاتمہ کا انتظا کریں تو شاید سوسل میں بھی یہ کشیدگی عمومی سطح پر ختم ہونے والی نہیں۔ لیکن رحمن فارمولا کا تجربہ بتاتا ہے کہ انفرادی سطح پر کسی بھی لمحہ یہ معتدل ماحول پیدا کیا جاسکتا ہے۔