Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30نومبر2000
ابوطالب رسول اللہ کے چچا تھے وہ آخر وقت تک ایمان نہیں لائے مگر ان کو رسول اللہ سے غیر معمول محبت تھی چنانچہ وہ نبوت کے بعد دس سال تک مشرکین مکہ کے مقابلے میں آپ کے حامی وماصح بنے رہے۔ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ ان کا ایمان نہ لانا ایک اہم حکمت الہی کی بناپر تھا کیونکہ وہ ایمان نہ لائےاسی کی بنا پر مشر جماعت کے ایک فرد سنے ہوئے تھے اور اس سے بناپر وہ مشرکین ہیں دباؤ ڈال سکتے تھے اگر وہ اسلام قبول کرلیتے تو وہ مشرک جماعت سے بے تعلق ہوجاتے اور رسول اللہ کی حمایت ان کے لیے م۔ترنے ہوتی اس سلسلے میں ابن کثیر لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ کی حکمت سے بولنا اور ابوطالب کا اپنے دین پر قائم رہنا اور انہوں نے رسول اللہ کی حمایت میں جو کچھ کہا اگر ابوطالب اسلام قبول کرلیتے تو نومشرکین قریش کے نزدیک اس کی عظمت و لکشت باقی نہ رہی یہ ان کے قول کی اہمیترہی اور یہ ان سے جومناکہلاتے اور نہ ہی اسکا احترام کرتے۔ وہ ابوطالب جری ہوجاتے اپنے زبان اور ہائی سے تکلیفیں پہنچاتے۔
ابوطالب کی حمایت سے رسول اللہ کو دعوت و تبلیغ کی راہ میں مدد ملتی عفمآپ نے کسی بھی مرحلہ میں اس پناہ کو مرد نہیں کہا۔
بدرالدین طیب جی (سابق وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی) آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت میں شرکت کی دعوت دی گئی تو انہوں نے جواب دیا مسلمانوں میں جماعتیں کہاں ہیں وہ تو کلب (Club)ہیں، میں جماعت کی تلاش میں ہوں۔ اس کا جائزہ لے رہا ہوں۔