Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
28جون2000
برادرم کوکب الباری تخصص کا مقالہ لکھ رہے ہیں جس کا عنوان یہ ہے: حرکۃ الاصلاح والتجدید خز الوحد الحدیث فی الہند۔ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں جو تجویدی تحریکیں اٹھیں خواہ ہندوستان کے اندر یا ہندوستان کے بار، سب کے سب ردعمل کی تحریکیں تھیں۔ نہ کہ مثبت تحریکیں، مثلاً مغربی استعمار کے نتیجہ میں سید جمال الدین افغان کی تحریک وجود میں آئی۔ فلسطین میں یہودیوں کے خلفہ کے اثر سے الاخوان المسلمون کا وجود ہوا۔ ایران میں شاہ کے مظالم کے ردعمل میں آیت اللہ خمینی کی تحریک وجود میں آئی۔ ہندوستان میں1947کے بعد فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تو آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت بن گئی۔ شاہ بانو بیگم کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ بن گیا وغیرہ۔
میں نے کہا کہ اس قسم کی تحریکوں کو میں ردعمل کی تحریک سمجھتاہوں نہ کہ حقیقی معنوں میں اسلامی تحریک۔ میں نے کہا کہ میں نے بھی ایک تحریک اٹھائی ہے لیکن اللہ کے فضل سے میرا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ میں نے اس مقصد کے تحت سالہا سال تک قرآن کو پڑھا، حدیث کو پڑھا، سیرت رسول کا بڑا مطالعہ کیا۔ صحابہ کرام کی زندگیوں کو پڑھا۔ اس کے علاوہ لمبی مدت تک دعا اور استخارہ میں گزارا۔ اس کے بعد مجھ کو جس چیز پر شرف حاصل ہوا اس کو میں نے ایک مشن کے انداز میں شروع کردیا۔ اس طرح تحریک الرسالہ وجود میں آئی۔