Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29جولائی2000
جس زمانہ میں میں ندوۃ کی مجلس تحقیقات و نشریات اسلام سے الگ ہوکر اپنے وطن واپس آگیا تھا، اس زمانہ میں مولانا محمد تقی امینی (وفات1999)علی گڑھ میں ناظم دینیات تھا۔ان کو مجھ سے بہت زیادہ لگاؤ تھا۔ چنانچہ انہوں نے بطور خود میرے بارے میں بہت سے لوگوں کو خطوط لکھے۔ تمام بڑے بڑے مسلم ادارہ اور برسوں میں انہوں نے یہ خط روانہ کیا۔ جیسا کہ معلوم ہے اکثر بڑے مدرسوں اور بڑے اداروں میں یا تو کوئی نہ کوئی رسالہ نکلتا ہے یا شعبہ تصنیف قائم ہے۔ مولانا تقی امینی چاہتے تھے کہ کوی ادارہ یا مدرسہ مجھے اپنے اس شعبہ کے لیے قبول کرلے۔ مگر بلا استثناء میں ادارہ نے میری صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے مجھے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ہر ایک نے براہ راست یا باالواسطہ انداز میں یہ کہا تھا کہ میرے اندر تنقیدی مزاج ہے ۔ اس بنا پر میں ان کے ادارے میں کھپ نہیں سکوں گا۔ اس زمامہ میں تب میں علی گڑھ گیا تو مولانا تقی امینی نے اداروں کی طرف سے آئے ہوئے یہ خطوط دکھائے۔ ان خطوط میں دارالمصنین، ندوۃ المصنفین وغیرہ جیسے اکثر ادارے شامل تھے۔