Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
11اپریل2000
10اپریل کو میں سہارنپور میں تھا۔ وہاں وودھ کلاکیندر میں ایک اجتماع ہوا جس میں شہر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو شریک ہوئے۔ اس میں زیادہ تر وکیل اور ڈاکٹر حیسے لوگ تھے۔ آر ایس ایس کا لیڈر اور ایک بڑاپولس افسر بھی اس میں موجود تھا۔ کل تقریباً50پچاس آدمی تھے۔ تقریباً ڈھائی گھنٹے تک سوال وجواب کی صورت میں گفتگو ہوئی۔ سوالات تقریباً سب کے سب اسلام کے بارے میں تھے۔ حاضرین میں سے کئی لوگوں نے کہا کہ جب آپ بول رہے تھے تو اکثر ہندوؤں کی آنکھ میں آنسو آگئے۔
میں پوری مجلس کی ویڈیو، ریکارڈنگ ہوئی۔ ویڈیو ٹیم میں ایک مسلم نوجوان بھی شامل تھا اور کو ایک بدووکیل سے میں نے تاثر پوچھا تو اس نے کہا کہ وہاں جو ہندو تھے وہ تو غیر معمولی ۔۔۔۔ پر آپ سے متاثر ہوئے۔ اس وقت ہمارا تاثر کا یہ حال تھا کہ اگر لوگ کچھ اور دیر تک اپنا بیان جاری رکھتے تو شاید ہم لوگ یہ سوچتے کہ ہم سب کو اس کی طرح مسلمان ہوجاناچاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مگر ایک بات بڑی عجیب ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیوٹیم میں ایک مسلم نوجوان تھا وہ پڑھا لکھا تھا۔ مگر جب میں نے اس سے اس کا تاثر پوچھا تو اس نے کہا کہ میری سمجھ میں نہیںآیا کہ مولانا صاحب نے کیا کہا۔