Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
26اپریل2000
ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من حفظ علی امتی اربعین حدیثاً فی امر دینہا احثہ اللہ فقہا وکنت لم یوم القیامت شافعاً وشہیداً (مشکوٰۃ المصابح86/1)
اس روایت میں حفظ کرام کو عام طور پر یاد کرنے کے معنی میں لیا گیا ہے۔ چنانچہ تقریباً تمام محدثین نےنبی کے اعتبار سے چالیس حدیثوں کا انتخاب کیا اور ان کو کتاب کی صورت دے کر شائع کیا۔ ان میں سے ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ چالیس حدیثوں کا مجموعہ تیار کرکے دینا۔ یہی وہ کام ہے جو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور شہادت کا مستحق بنانا ہے حالاں کہ اس روایت میں حفظ کے معنی یادکرنے کے نہیں ہے بلکہ نگرانی کے کرنا ہے۔
اگرچہ تقریباً تمام محمدثین کا یہی خیال ہے مگر میں اس کو بالکل بے بنیاد سمجھتا ہوں اس روایت کا مطلب چالیس حدیثوں کا یادکرنا یا چالیس حدیثوں کا مجموعہ تیار کرنا نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد امت کی اصلاح کی مہم ہے۔ یعنی جو شخص تقریباً چالیس بنیادی حدیثوں کو منتخب کرے اور پھر ان نبوی تعلیمات کو امت کی زندگی میں قائم کرنے کی کوشش میں لگ جائے۔ یہاں تک کہ اس میں وہ اپنی ۔۔۔۔۔ ۔۔ کرتے تو ایسے مصلح کے لیے مذکورہ انعام کی بشارت ہے۔