Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
7اکتوبر2000
تقریباً دس سال پہلے کا واقعہ ہے۔ میں نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کی ایک میٹنگ میں شریک تھا۔ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی میٹنگ تھی۔ اس موقع پر ایک مشہور ہندو وکیل نے بار کرتے ہوئے کہا: مولانا صاحب اسلام کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ عورت اور مرد کے درمیان جنسی مساوات (Gender Equality)کو تسلیم نہیں کرتا۔ آپ لوگوں کو عورت اور مرد کو برابر کا درجہ دینا پڑے گا، ورنہ آپ کا اسلام آج کی دنیا میںچل نہیں سکتا۔
اس ڈائری میں6اکتوب کے تحت میں نے جس سائنس دریافت کا ذکر کیا ہے اس کے بعدیہ معاملہ بالکل بدل جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے روشن خیال حضرات یہ کہتے چلے آرہے تھے کہ عورت اور مرد کے درمیان کامل مساوات ہے۔ جب کہ اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ: الرجال قوامون علی النساء (النساء34)اس سائنسی دیافت کے بعد اب زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مساوات مردوں کا نظریہ عملاً چلنے والا نہیں جو چیز دنیا میں قابل عمل ہے وہ اسلام کا نظریہ ہے۔
یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ جدید سائنسی تحقیقات دوسرے نظریات کی تو تردیدکررہی ہیں مگر وہ اسلام کے نظریات کی مسلسل تصدیق کرتی چلی آرہی ہیں۔ اسلامی اصول کے مطابق، صحیح بات یہ ہے کہ مساوات مردوں کا تعلق دونوں کے درمیان یکساں احترام سے ہے۔ یعنی جہاں تک عزت اورانسانی حقوق کا تعلق ہے دونوں کو یکساں درجہ دیا جاتا ہے۔ مگر جہاں تک دائرہ کار یا مقام عمل (Workplace)کا تعلق ہے، وہ دونوں کے لیے الگ رہے گا۔ یعنی ہلکے کام عورتوں کے لیہ اور زیادہ محنت کا کام مردوں کے لیے۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ مرد کا دائرہ کار توباہر ہے اور عورت کا دائرہ کار بنیادی طور پر گھر کے اندر۔