Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
27جولائی2000
مصر کے ایک عالم خالد العشری ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام یہ ہے: صریمۃ الفکر التکفیری اس کے مصنف نے موجودہ طرز ممکنیر کو غیر ۔۔۔ بتایا ہے۔ اس کتاب کی رو میں سعودی عرب کے ایک عالم الشیخ صالح بن عوران الفوز ان کا ایک مضمون ریاض کے عربی مجلہ الدعوۃ (4ربیع الاول1421)6جولائی2000 میں چھپا ہے۔ شیخ موصوف نے مکنیر کے طریقہ کو درست قرار دیا ہے۔ اس کے سلسلہ میں انہوں نے قرآن وحدیث سے دوحوالے نقل کئے ہیں۔ ایک منافقین مدینہ کے بارے میں قرآن کا یہ ارشاد کہ: قدکفرنم بعد ایانکم(التوبۃ66) اسی طرح حدیث سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ: بین العبد دین الکفر ترن الصلوٰۃ۔
شیخ مذکور کا راستدلال درست نہیں۔ انہوں نے دو چیزوں میں فرق نہیں کیا۔ اصل یہ ہے کہ مذکورہ آیت یا حدیث ۔۔۔۔ اظہارناراضگی کی مثال ہے نہ کہ شخصی تکبیر کی مثال۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ قرآن میں مدینہ کے جن منافقین کے بارے میں ’’کفر‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ان کی تعداد وہاںتین سو تھے۔ مگر اس بات کے نزول کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افراد کا نام لے کر شخص انداز میں ان کی تنقید نہیں کی۔ اسی طرح حدیث میں ترک صلوٰۃ کے بارے میں ’’کفر‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ مگر اس سے مراد شخص تکفیر نہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر زمانہ میں بہت سے مسلمان ایسے رہے ہیں اور آج بھی ہیں جو کاذ کے تارک ہیں مگر علماء اسلام نے کبھی شخصاً شخصاً نام لے کر ان کی تکصیر نہیں کی۔