Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
2ستمبر2000
فقہاء کے یہاں فجر کی نماز کے بارے میں لمبی بحثیں ہوتی ہیں کہ مجلس کی نماز افضل ہے یا اسناء کی نماز افضل ہے۔ میرے نزدیک اس مسئلہ کا تعلق نمازیوں کی سہولت سے ہے نہ کہ خودنماز کی فضیلت سے۔ اس حقیقت کو میں نے اپنے تجربہ سے جانا، مجھے ذاتی طور پر نالس (اندھیرے) کی نماز پسند ہے۔ نظام الدین میں کالی مسجد میں فجر کی نماز اندھیرے میں اول وقت میں ہوتی ہے۔ چنانچہ شروع میں میں وہاں جاتا تھا مگر میرے لیے دومسئلے تھے۔ ایک تو یہ کہ میں سڑک سے اترکر اس مسجد کی طرف جانے والی گلی میں داخل ہوتا تھا تو استہ ناہموار ہوتا تھا۔ چنانچہ ایک بار میںوہاں بری طرح پھسل گیا۔ دوسرا مسئلہ یہ وہاں آوارہ کتے ہوتے ہیں۔ جو آدمیوں کو دیکھ کر بھوکتے ہیں۔ کتوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ اندھیرے میں بھوکیںگے اور اجالا ہونے پر اپنے آپ چپ ہوجائیں۔ اس مسئلہ کی بناپرمیں قریشی مسجد میں جانے لگا جہاں فجر کی نماز اسعار (اجالے) میں ہوتی ہے۔
میرا بھی خیال بقیہ نمازوں کے بارے میں بھی ہے۔ نمازوں کے جو اوقات حدیثوں میں آئے ہیں ان کے بارے میں افضل اور غیرافضل بحث چھیڑنا بے معنی ہے۔ اوقات کو نمازیوں کی سہولت کے اعتبار سے مقررکیا جائے گا۔ اس لیے اوقات میں وسعت رکھی گئی ہے۔ جہاں تک اس کا سوال ہے کہ کون سی نماز افضل ہے اس کا تعلق وہ تمام تر نمازی کے داخلی کیفیت سے تعلق رکھتی ہے۔ جو نماز جتنی زیادہ ربانی کیفیات کے ساتھ پڑھی جائے گی وہ نماز اتنا ہی زیادہ اصل ہوگی۔ اوقات نمازکا معاملہ امانی ہے نہ کہ فقہی۔