Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
15اگست2000
سورۃ المائدہ (آیت3)میں اسلام کے جو امتیازی اوصاف بتائے گئے ہیں وہ چار چیزوں پر مشتمل ہیں۔ (1)منکرین حق کا مایوس ہوجانا(2)اکمال دین(3)اتمام نعمت(4)اسلام کا پسندیدہ دین بن جانا۔ اب ان چاروں پہلوؤں کے بارے میں مختصراً غور کیجئے۔
مفکرین حق کا خدا کے دین کی طرف سے مایوس ہوجانے کا مطلب کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان جب زمین پر آباد ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی ہدایت کے لیے اپنے پیغمبر بھیجنے شروع کئے۔ ایک روایت کے مطابق مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زیادہ پیغمبر دنیا میں آئے۔ مگر پچھلے تمام پیغمبروں کا حال کم و بیش یہ رہا کہ ان کی دعوت صرف فکری مرحلہ تک پہنچی وہ عملی انقلاب کے مرحلہ میں داخل نہ ہوسکی۔
جب بھی کوئی پیغمبر اللہ کی طرف سے دین کا پیغام لے کر آیا تو وقت کے سردار اس کے مخالف بن جاتے۔ وہ پہلے ہی مرحلے میں اس کو دبادینے کی کوشش کرتے۔ چنانچہ پچھلے پیغمبروں کے زمانہ میں صرف یہ ہوا کہ انہوں نے حق کا اعلان کیا اور لوگوں کو اس سے باخبر کرنے کے لیے اپنی ساری کوششیں کیں مگر ان کی پشت پر ایسی طاقتور جماعت نہ بن سکی جو اللہ کے دین کو فکری دور سے آگے بڑھاکر عملی انقلاب کے دور میں پہنچادے۔ اس غیر مقبولیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچھلے پیغمبروں کا اندراج ان کی ہمعصر تاریخوں میں نہ ہوسکا۔ خالص تاریخی اعتبار سے تمام پیغمبر، بشمول حضرت مسیح، غیر تاریخی۔