Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
26ستمبر2000
عن عائشہ رضی اللہ عنہ قالت: فقد رت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایلۃ من العزائن فالقمسقہ فوقوت یدی علی مطمن قدمیہ وھو المسجدوما منصوبان، وھو یقول: اللہم انی اعوذ بل برمال من سخطلب و معافاتت من عقو بتک واعوذبل منک، لا احص ثناء علیک انت کما اثیت علی نفسہ لم (مسلم)
یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک بار میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر نہ پایا۔ میں نے آپ کو تلاش کیا۔ پس میرا ہاتھ آپ کے پاؤں کے تلوے پر پڑگیا اور آپ مسجد میں تھے۔ اور وہ دونوںبچھے ہوئے تھے۔ اور آپ کہہ رہے تھے : اے اللہ میں تیری پکڑسے تیری رضا کی طرف پناہ چاہتا ہوں اور تیری سزا سے تیری معافی کی طرف پناہ چاہتاہوں اور میں تیرے ذریعہ تیری طرف پناہ مانگتاہوں، میں تیری تعریف کو گن نہیں سکتا، تو ایساہی ہے جیسا کہ تونے خود اپنی تعریف بیان کی۔ (مشکوٰۃ المصابیح281/1)
ایک شخص ’’مسائل‘‘ کا دھن لے کر اس حدیث کو پڑھے تو وہ اس حدیث سے ان یہ مسئلہ نکالنے کا کہ عورت کے چھونے سے مرد کاوضو نہیں ٹوٹتا۔ اس کے برعکس جو شخص ’’اخرتے‘‘ کا ذہن لے کر اس حدیث کو پڑھے گواہ اس حدیث سے یہ سبق لے گا کہ آدمی اگر آخرت کا فکرمند ہو تو اس کا حال یہ ہوگا کہ رات کے وقت بستر پر اس کو سکون نہیں ہوگا۔ آخرت کی یاد اس کو اس طرح تڑپائے گی کہ وہ بستر کو چھوڑکر اللہ کی عبادت میں مشغول ہوجائے گا اور سجدہ میں گرکر اس قسم کی دعا کرنے لگے گا جس کا ایک نمونہ اس حدیث میں ملتا ہے۔