Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30مارچ2000
جناب محمد بشیر صاحب (پیدائش1947)۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ آئیں۔ ان سے دہلی میں ملاقات ہوئی۔ وہ بہت عرصہ سے تبلیغ میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سابق امیر تبلیغ مولانا محمد یوسف صاحب کی تقریریں بھی سنیں ہیں میں نے ان سے پوچھا کہ مولانا یوسف کی کوئی بات یاد ہو تو بتائیے۔ انہوں نے بتایا کہ1961میں میں نظام الدین آیا۔ یہاں مولانا یوسف صاحب کی تقریر سنی اس تقریر میں انہوں نے فرمایا کہ محنت کرکے اپنا ایان بنالو جس دن دنیا میں ایٹم بم برس گئے۔ اس وقت عام لوگ بھاگ کر چوہوں کی طرح بلوں میں گھس رہے ہوں گے۔ مگر محنت کرکے جن لوگوں نے ایمان بنالیا ہوگا وہ میدان میں کھڑے ہوکر کہیں گے ۔چیزوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ اللہ سے سب کچھ ہوتا ہے۔ (تعلم نذیر احمد قاسمی، اجین: فون نمبر0734-558415)
یہ بلاشبہ انتہا پسندی ہے۔ اس بات کی بنیاد نہ اسلام پر ہے اور نہ عقل پر۔ مگر عجیب بات ہے کہ جو لوگ انتہا پسندی کی بولی بولتے ہیں انہیں کے گرد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہوئی ہے حقیقت پسندانہ بات کہنے والوں کے گرد کبھی بھیڑاکٹھا نہیں ہوتی۔ اگرچہ نتیجہ بتاتا ہے کہ انتہاپسندی کی بولی بولنے والوں نے ہمیشہ لوگوں کو بھیانک تباہی سے دوچار کیا ہے۔ لیکن کسی کا یہ قول بالکل درست ہے کہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ انسان نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔