Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
15جولائی2000
برادرم کوکب الباری نےبتاریخ 17 جولائی2000کا ایک واقعہ بتایا۔ جامعہ ملیہ میں ایک ۔۔۔۔۔۔ (1991)ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے ایک عزیز سہیل احقر نے اس سال پولی ٹکنک میں اپنا ۔۔۔۔ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ17جولائی کو میرا رزلٹ نکلنے والا ہے۔ تم وہاں جاکر معلوم کرلینا اوربتادینا۔ کوکب صاحب تقریباً دو بجے وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ رزلٹ ساڑھے چار بجے بتایاجائے گا۔ اس وقت جب کہ وہ پولیٹکنک کی بلڈنگ کے سامنے کھڑے تھے ایک آٹورکشا وہاں آکررکا۔ اس میں سے ایک پہلا نوجوان اترا۔ اس نے کوکب سے ہے رزلٹ کے بارے میں دریافت کیا۔ اس نے خود بھی اس میں ٹسٹ دیا تھا۔ کوکب صاحب نے بتایا کہ اس کا رزلٹ ساڑھے چار بجے نکلنے والا ہے۔ ہندونوجوان نے کہا میں اتنی دیر تک یہاں ٹھہر نہیں سکتا۔ آپ میرا رزلٹ نوٹ کرلیں اور دیکھنے کے بعد مجھے ٹیلیفون پر بتادیں۔ اس نے ٹیلیفون کا پیسہ بھی دینا چاہا مگر کوکب صاحب نے نہیں لیا۔ رزلٹ دیکھنے کے بعد کوکب صاحب نے مذکورہ ہندو نوجوان کو اس کے رزلٹ کے بارے میں بتایا۔ یہ سن کر ہندونوجوان بہت خوش ہوا اور کہا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اتنی امید نہیں تھی کہ میری کوئی اتنی سہایتا کرےگا۔ آپ کو میں نے کشٹ دیا اس کے لیے مجھے معاف کردیں۔
ہندونوجوان میں جو ہندو کا مسئلہ ہے اس کا سادہ حل بس یہی ہے۔ یعنی ہندو اور مسلمانوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ اختلاط (Interaction)ہو۔ اس احتلاط کے دوران فطری طور پر ہندوؤں کو مسلمانوں سے انسانی سلوک اور اسلامی اخلاق کا تجربہ ہوگا۔ اس کے نتیجے میں اپنے آپ نے غلط فہمیاں دور ہوںگی اور دونوں فرقوں کے درمیان نارمل تعلق قائم ہوجائیں گے۔ اور دونوں فرقوں کے درمیان (معاملات) تعلقات کا قائم ہونا ہی موجودہ ۔۔۔۔۔ کے میں معمولی اس سے بڑی ضرورت ہے۔