Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
18اپریل2000
مسٹر روپ نرائن (پیدائش1914) ملاقات کے لیے آئے۔ ان کے ساتھ بابولال شرما بھی تھے۔ مسٹر روپ نرائن پرانے کانگریس ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ8اگست1942کو بمبئی میں کانگریس کا جو تاریخی اجلاس ہوا میں اس میں موجود تھا۔ اسی اجلاس میں مہاتماگاندھی اور دوسرے کانگریسی لیڈروں نے انگریز و بھارت چھوڑو (Quit India)کا نعرہ دیا۔ مسٹر روپ نرائن نے بتایا کہ رات کا وقت تھا۔ زبردست بارش ہورہی تھی جس میں لوگ مسلسل بھیگ رہے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تقریر سننے کے لیے ہر ایک وہاں کھڑا ہوا تھا۔ گاندھی جی نے اپنی تقریر میں کہا:
آج سے ہر ہندوستانی اپنے کو آزاد سمجھے۔ آج سے آپ کا لیڈر کوئی نہیں ہے۔ اپنے آپ کو ہی لیڈر سمجھیں۔
میں نے کہا کہ گاندھی جب ملک میں اتنا زیادہ مقبول تھے تو1947کے بعد ان کا یہ حال کیوں ہوا کہ لوگ ان سے کٹ گئے۔ یہاں تک کہ خود گاندھی کو کہنا پڑ ا کہ ’’اب میری کون سنے گا‘‘۔ مسٹر روپ نرائن نے گفتگو کے دوران اعتراف کیا کہ مہاتماگاندھی حالات کس سمجھ نہ سکے۔