Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
11ستمبر2000
برادرم کوکب الباری نے بتایا کہ وہ ندوہ میں پڑھتے تھے تو ہر سال وہاں وہ ایک تقریب میں شرکت کرتے تھے۔ ندوہ گومتی ندی کے کنارہ واقع ہے۔ اس ندی کے دوسری طرف شہید اسمارک ہے۔ جس کے ساتھ بہت بڑا سبز لان ہے۔ یہاں ہر سال پندرہ اگست کی شام کو ہندوؤں اور دوسرے مذہب کے قوموں کی تقریبات ہوتی ہیں۔ ندوہ کے طلبا اس میں سینکڑوں کی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے کئی بار ان میں شرکت کی۔ پر بارباریہ ہوا کہ جب مغرب کا وقت آیا تو ندوہ کے طلبا نے لان پر کھڑے ہوکر باجماعت نماز اداکی۔ جیسے ہی ہم لوگ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔ وہاں کی تقریبات روک دی جاتی تھیں اور لاؤڈاسپیکر بند کردئے جاتے تھے۔ لوگ احترام کے ساتھ ہماری نماز دیکھنے آتے تھے۔
اس طرح کے واقعات ملک میں جگہ جگہ ہوتے رہتے ہیں مگر مسلمانوں کے اخبار میں خوب نمایاں کرکے اور سابقہ انگیز انداز میں چھاپا جاتا ہے۔ اور اس کا چرچا کیا جاتا ہے۔ اگر مذکورہ قسم کے واقعات چھاپے جاتے اور مسلم محفلوں میں اس کا تذکرہ ہوتا تو مسلمانوں کے اندر مثبت ذہنیت پر ورس بھی مگر اس کے برعکس عمل کا نتیجہ ہوا کہ تمام مسلمان منفی ذہنیت کا شکار ہوکر رہے گا۔ حتیٰ کہ خود دارالعلوم ندوہ کے ایک رئیس نے عرب میں جاکر وہاں کے عربی اخبار میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا: مسلمو الہندبین فکّی الرّخی (ہندوستان کے مسلمان چکی کے دو پاٹو کے درمیان ہے)