Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تیرے محیط میں کہیں جوہرزندگی نہیں ڈھونڈھ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف صدف
اقبال نے یہ بات پوری امت کے بارے میں کہی تھی۔ اس کے بعد سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اسلامی تحریک چلائی اور جماعت اسلامی کی شکل میں ایک تنظیم قائم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کوشش کے ذریعہ وہ مسلم سوسائٹی کا مکھن جمع کررہے ہیں۔ جماعت اسلامی کی صورت میں انہوں نے یہ مکھن جمع کیا۔ مگر جماعت اسلامی بننے کے بعد انہوں نے اپنی جماعت کا جو سالانہ اجتماع کیا اس میں انہوں نے یہ شکایت کی کہ جماعت کے اندر مرکزکی ہدایات پر ٹھیک ٹھیک عمل نہیں کرتے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں ایسی بندوقوں سے کام لے رہا ہوں جو کبلبی دبانے پر بھی فائر نہیں کرتیں(روداد جماعت اسلامی حصہ اول)
اس تجربہ کے باوجود اقبال نے1938میں تقسیم ہند کی تجویز پیش کی۔ اور1947میں پاکستان بننے کے بعد سید ابوالاعلیٰ مودودی نے پاکستان میں اسلامی قانون نافذ کرنے کے لیے ہنگامہ خیز تحریک شروع کردی۔
اقبال اور مودودی اور اس طرح موجودہ زمانہ کہ تقریباً تمام مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کو ’’خیرامت‘‘ فرض کرکے بڑے بڑے اقدامات کیے۔ یہ تمام اقدامات ناکامی پر ختم ہوتے۔ اس ناکامی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ مسلمان زوال یافتہ ہوکر ایک بے جان قوم بن جاتی۔ وہ کسی گہرے منصوبہ کا تحمل نہیں کرسکتے تھے۔ ایسی حالت میں ملی کام کا آغاز شعوری بیداری اور تعلیم سے کرنا تھا نہ کہ عملی اقدام یا سیاسی اقدام سے۔