Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
17اکتوبر2000
آج کل فلسطین میں فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان شدید ٹکراؤ جاری ہے۔ اس کے نتیجہ میں اگر سخت مشتعل ہوگئے ہیں۔17اکتوبر کو میں نے ابوطبی کے ریڈیو پر سنا کہ ایک شیخ پر جوش طور پر فلسطینیوں کی حمایت میں تقریر کررہے تھے۔ اس میں انہوں نے کہا کہ پرجوش انداز میں کہا کہ: کلہا فلسطینیوں۔ یعنی ہم سب کے سب فلسطینی ہیں۔ بج سو سے زیادہ علماس نے یہ اعلان کیا ہے کہ یوم الجمعہ کو یوم الغب کے طور پر منایا جائے، وغیرہ۔ اس باتوں کے نتیجہ میں فلسطینی سخت مشتعل ہیں۔ ایک فلسطینی لیڈر نے اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تم ہم کو مارسکتے ہو مگر تم ہم کو ہرانہیں سکتے ہو۔ نفرت کے اس ماحول کے دونتائج ہوئے ان میں سے ایک یہ ہے کہ چند دن پہلے فلسطینیوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے قبرکو تباہ کردیا۔
اس کارروائی کی وجہ غائبانہ تھی کہ یہ لوگ حضرت یوسف کو یہودیوں یا اسرائیلیوں کا پیغمبر سمجھتے ہیںحالانکہ وہ مسلمانوں کے لیے بھی اتنا ہی آج جتناکہ اسرائیلیوں کے لیے۔
حضرت یوسف کی زندگی میں ایک بے حد اہم مثال ہے۔ انہوں نے اپنے زمانہ کے بادشاہ کے اقتدار کے تحت ایک بڑا عہدہ قبول کیا تھا جس کو وزیرذراعت کا عہدہ کہا جاسکتا ہے۔ یہ اس نوعیت کی ایک مثال تھی جس کو موجودہ زمانہ میں اقتدار میں شرکت (Power Sharing)کہا جاتا ہے۔ حضرت یوسف کی اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار میں شرکت خدائی شریعت کے اعتبار سے ایک جائز فعل ہے۔
حضرت یوسف کے زمانہ میں اس قسم کی شرکت اقتدار استثنائی طور پر حضرت یوسف کے ساتھ پیش کی۔ کیوں کہ وہ زمانہ مطلق العیان بادشاہی کا زمانہ تھا۔ جس کے تحت شرکت اقتدار کی یہ صورت ممکن نہ تھی مگر قیم دور میں جو واقعہ بطو استثناء پیش آیا تھا۔ وہ اب ایک عموم بن چکا ہے۔ موجودہ زمانہ جمہوریت کا زمانہ ہے۔ آج ہر ملک میں جمہوری نظام قائم ہے، اور جمہوری نظام میں اپنے سیاسی اصول کے مطابق شرکت اقتدار کا نظام ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں یہ سبق تھا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان اس سیاسی نظام سے فائدہ اٹھاکر شریک اقتدار بن جائیں۔ مگر نفرت اور تعصب کے جنون نے مسلمانوں کو اس حقیقت پرناآشنا کردیا، پہلے مسلم جو اصل کو اور اس کے جد مسلم عوام کو۔