Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30ستمبر2000
اور وہ سے متعلق نے ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ من لم یہ لم قول الزور والعل فلیس للہ حاتہ عی اُن یدع طعامہ وشرابہ ۔ یعنی جس آدمی نے دوروزہ رکھ کر جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی حلوت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور اپنا پانی چھوڑدے۔
یہ تبدیلیاں روزہ کے بغیر اس (حوالہ) میں کہی گئی ہے مگر اس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ حدیث میں اکثرایسا ہونا ہے کہ ایک بات کسی متعین ریفرنس میں کہی جاتی ہے مگر اس کے ساتھ اس کا ایک جنرل ریفرنس کا ہوتا ہے۔ اور حدیثوں کو وہی شخص پوری طرح سمجھ سکتا ہے جو ان کا مطالعہ جنرل ریفرنس میں کرے میرا احساس یہ ہے کہ دنیا کی تقریباً تمام برائیاں انہی دو قسموں پر منبم ہے یہ برائی یا تو قول زور یا عمل زور پر۔
اصل یہ ہے کہ آدمی جب بھی کچھ بولتا ہے یا وہ عمل کرتا ہے تو وہ اپنی فطرت کے لحاظ سے ہمیشہ اس کا ایک مبرر (Justification)چاہتا ہے۔ انسان کا یہی مزاج وہ برائی پیدا کرتا ہے جس کو حدیث میں قول زور یا عمل زور کہا گیا ہے۔ مثلاً ایک آدمی ذاتی قیادت کے لیے ایک تحریک اٹھائے گا اور اس کو قوم کے مسئلے کا حل بتائے گا اس طرح ایک آدمی ذاتی مفاد کے تحت ایک عملی اقدام کرے گا اور اس کو یہ حقیقت بتا گویا کہ وہ دین کی تقاضا کی بنا پر ایسا اقدام کررہا ہے۔