Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
15فروری2000
ایک ہندوستانی مسلمان پچیس سال سے سعودی عرب میں رہتے ہیں۔ ان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں ہندوستان میں پیدا ہوا۔ پہلے میں ہندوؤں کو برادران وطن کی نظر سے دیکھتا تھا۔ مگر6دسمبر1992کو جب انہوں نے اجودھیا کی بابری مسجد ڈھادی تو مجھے ہندوؤں سے نفرت ہوگئی۔ میں نے کہا کہ آپ سعودی عرب میں رہتے ہیں۔ وہاں بھی تو سیکڑوں مسجدیں ڈھائی گئی ہیں پھر آپ سعودی ۔۔۔۔۔ ہوکر وہاں سے واپس کیوں نہیں آجاتے۔اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔
میں نے غورکیا کہ لوگ اس طرح ڈبل اسٹینڈرڈ کیوں ہوتے ہیں۔ میری سمجھ میں آیا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ اس کے پیچھے نہایت گہرا سبب چھپا ہوا ہے۔ اور وہ یہ کہ ۔۔۔۔۔۔ ملکوں میں نیک نامی اور عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب میں مسجد کے انعدام پر چپ رہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ہے اور ہندوسان میں اس پر بولنے میں فائدہ ہے۔ اس لیے وہ دونوں جگہ دو اثر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اختیار کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں اگر ان مسجد کے ڈھائے جانے کے خلاف بولیں تو وہاں کے سماج میں بے عزت ہوجائیں گے۔ کوئی بھی ان کو عزت کی نظر سے نہ دیکھے گا۔ کیوںکہ مخالفت نظام سعودی عرب میں سب سے بڑا جرم ہے۔ مگر ہندوستان میں مسلمانوں کے درمیان رہنے والے کو اس سے مخالف سماج ۔۔۔۔۔۔ پیش آتا ہے۔ یہاں بنی ہوئی مسجد کے ڈھانے والے کو برابنائے وہ مسلمانوں کے درمیان معقول فرکا اور لوگ مسجد ڈھائے ۔۔۔۔گا کو برانہ بتائے تو مسلمانوں کے درمیان وہ بے عزت ہوکر رہ جائے گا۔ اس دہرا معیار کا مشترکہ ۔۔۔۔۔ صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے لوگوں کے درمیان بڑا دیا۔