Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
26مئی2000
ہندوؤں کی ایک بہت بڑی تحریک ہے جس کو سوادھیا کہا جاتا ہے۔ اس کے بانی اور لیڈر کا نام پانڈورام شاستری ہے۔ یہ مبنی پر گیتا (Geeta Based)ایک تحریک ہے۔ ان کا ایک خصوصی اجتماع دہلی کے قریب سورج کنڈ میں ہوا۔ اس میں تحریک کے تعلیم یافتہ شریک ہوئے۔ خود پانڈورام شاستری بھی اس میں موجود تھے۔ خصوصی دعوت پر میں نے بھی اس میں شرکت کی۔
تین دن کے اس اجتماع میں تمام لوگ بولتے رہے۔ میں مسلسل خاموش رہا۔ آخری دن ان لوگوں کے سخت اصرار پر میں نے تقریباً پون گھنٹہ بات کی۔ یہ میرے لیے ایک مشکل مسئلہ تھا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ وہاں اسلام کی بات کہوں مگر بات اس طرح ہوکہ انہیں تبلیغ نہ معلوم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بات میرے دل میں ڈالی۔ میں نے کہا کہ آپ کی تحریک ایک تعمیری تحریک ہے اور میں چاہتا ہوں کہ مسلمان بھی اس میں شرکت کریں۔ مگر اس سلسلہ میں ایک سوال پیداہوتا ہے۔ آپ کی تحریک کا ایک سماجی پہلو (Social aspect)ہے۔ مسلمان بہت آسانی سے اس میں جڑسکتے ہیں۔ دوسرے اس کا نظریاتی پہلو(Idealogical aspect)ہے۔ یہ دوسرا پہلو مسلم مائنڈ کے لیے قابل قبول ہونا مشکل ہے۔ میں نے کہا کہ آپ گیتا کی بنیاد پر ان ڈولنگ گاڈ(Indivelling God)کا نظریہ پیش کرتے ہیں مگر قرآن کی بنیاد پر مسلمانوں کا جو نظریہ بنا ہے وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ مسلمان ان ڈولنگ گاڈ کے بجائے آؤٹ ڈولنگ گاڈ(Out dwelling God) پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ اس کے بعد میں نے وحدت وجود (monism)اور توحید (monothesim)کے حوالے سے توحید کی پوری بات ان کے سامنے رکھ دی۔ میری پون گھنٹہ کی تقریر لوگوں نے اتنے غور اور توجہ کے ساتھ سنی جیسے کہ انہوں نے کسی کی بھی تقریر نہیں سنی تھی، حتیٰ کہ پانڈورام شاستری کی بھی۔