Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
جو سفینہ ودماغ پر پڑی نگاہ فتنہ گر تو گھتی کئے دل وجگر خود سے ہوش لڑگیا
اس شعر میں ’’آپ‘‘ سے مراد انگریز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انگریزوں نے آکر ہندوسان کو تباہ کردیا۔ دوسرے شعر میں یہ بتایاگیا ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں ایک ہی وحدت کے روجز تھے لیکن انگریزوں نے دونوں کو لڑادیا۔ اسی طرح اقبال ، محمد سہیل6یوما کلام انگریزوں کے خلاف علم کی داستان سے بھراہوا ہے۔ ان کے کلام کو پڑھ کر جنگ جیسے انگریزوں نے انڈیا میں کوئی بھی اچھا کام نہیں کیا۔
یہی بات نہایت عجیب ہے اس لیے کہ اقبال احمد سہیل اور ان کا۔۔۔۔۔۔ اس بات کا ثبوت تھا کہ انگریزوں نے ہندوستان میں بہت سے اچھے کا کیے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارا خاندان بہت بڑاخاندان تھا۔ یہی میں اقبال احمد سہیل کی شاخ کو سب سے زیادہ عظمت ملی۔ اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ اقبال احمد سہیل نے علیگڑھ میں تعلیم حاصل کی اور وہاں ایم اے ایل ایل بی کیا۔اس وقت ہمارے خاندان میں یا آس پاس شاید کوئی بھی ایم اے ایل ایل بی نہ تھا۔ علیگڑھ کا ادارہ جس کو اقبال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری ملی وہ تمام تر انگریز کی مدد سے وجود میں آیا تھا۔ آج ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ وہاں پہلے ۔۔۔۔۔۔ اور بنجر زمین تھی۔ گویا اقبال احمد سہیل اپنے ذاتی ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ انگریزوں کی نظر پڑی وہاں سلمان چمن بن گیا۔ اور دفت میں سہارا گی۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذاتی تجربہ سے بھی انہوں نے کوئی سبق نہیں لیا۔ یہی تقریباً تمام لوگوں کا حال ہے اگر سنی سنائی لوگ معلوم یا ذاتی تعصبات کے خود اپنی عقل سے مطابق کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں کر پائے۔