Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
27دسمبر2010
پہلے زمانے میں کہا جاتا تھا کہ علم دو ہیں -دین کا علم اور بدن کا علم ۔ ( العلم علمان : علم الأديان وعلم الأبدان )۔ میں کہوں گا کہ علم دو ہیں ۔ ایک ہے علم سائنس اور دوسرا ہے علم معرفت ۔ علم سائنس سے مراد مادیات کا علم ہے ۔ مادیات کا علم تمام تر ریاضیات اور تجربات پر قائم ہے۔ علم سائنس میں مہارت حاصل کرنے کے لیے ٹکنکل معلومات کافی ہے ۔ لیکن معرفت کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ معرفت ِ خدا وندی کے معاملے میںعلم صرف پچاس فی صد کام کرتا ہے ۔ اِ س کے بعد جو چیز کام کرتی ہے ، وہ دعا ہے ، یعنی حقیقی طور پر اللہ کے طالب ِ معرفت ہونا۔ فنی معرفت کسی کو علم کے ذریعے مل سکتا ہے ، لیکن اعلیٰ معرفت دعا کے بغیر ممکن نہیں ۔ دعا اعلیٰ معرفت کا دروازہ ہے ۔ دعا کیا ہے ، دعا در اصل حقیقی طلب کے اظہار کا نام ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ حقیقی طالب کی دعا کو ضرور سنتا ہے ، لیکن جس شخص کے اندر حقیقی طلب نہ ہو، اس کو وہ نظر انداز کر دیتا ہے ۔