Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
1اپریل 2010
سولھویں صدی عیسوی کے آخر تک انسان خلا کا شاہدہ صرف برہنہ آنکھ سے کر سکتا تھا۔ برہنہ آنکھ سے آسمان میں بمشکل دس ہزار ستارے گنے جا سکتے تھے ۔ اس کے بعد اٹلی کے گلیلو نے 1608عیسوی میں دور بین (Telescope)سے آسمان کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد دور بینی علم میں ترقی ہو تی رہی ، یہاں تک کہ 1949میں پیلو مر آبزرویٹری بنی ۔ اِس سے آسمانی مشاہدہ زیادہ بڑھ گیا ۔ اس کے بعد 1990ہبل (Hubble)آبزرویٹری بنی۔ اِس سے مشاہدہ میں مزید وسعت ہوئی ۔ اب 2009میں خلائی آبزرریٹری نا سا نے تیار کی ہے جس سے مشاہدے کی وسعت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ اِس کے ساتھ دوربین (Microscope)میں بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے ۔ اِس قسم کے آلات خدا کی عظمت کی مزید دریافت کے ہم معنی ہیں۔