Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
پُوے سیٹی دیا اور چل پڑی رل گڑی ، رل گڑ ی، رل گڑی
مولانا نور الہدیٰ صاحب کا ذہن مزاحیہ شاعری کے انداز پر بنا تھا۔ انھوں نے جب ٹرین کی آواز سنی تو ان کے ذہن میں مذکورہ مزاحیہ شعر ڈھل گیا۔ اِس ریلوے کے بارے میں جواہر لال نہرو نے ایک اور انداز کے تبصرہ کیا۔ انھوںنے اپنی کتاب ’’ڈسکوری آف انڈیا ‘‘ میںلکھا ہے کہ انگریزی حکومت نے ہندوستان میں جو ریلوے لائن بچھائی ہے ، وہ ریلورے لائن نہیں ہے ، بلکہ وہ لوہے کی زنجیر ہیں۔ وہ اِس لی ہیں کہ انڈیا کو مستقل طور پر لوہے کی زنجیروں میں جکڑ دیا جائے ۔ جواہر لال نہرو ایک سیاسی لیڈر تھے ۔ ان کا ذہن سیاسی اعتبار سے بنا تھا ۔ چناںچہ ریلوے کا ظاہرہ ان کے ذہن میں سیاسی اعتبا ر سے ڈھل گیا۔
اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کنڈیشنگ کیا ہے اور کیوںلوگ اصل بات کو سمجھ نہیں پاتے ۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کا ذہن اپنے قریبی حالات کے اعتبار سے بنتا ہے ۔ وہ اپنے ذہنی سانچے کے اعتبار سے سوچتا ہے ۔ اِس بنا پر وہ کسی معاملے کے اصل پہلو کو سمجھ نہیں پاتا ۔ حیح طرز فکر یہ ہے کہ آدمی اپنے بنے ہوئے شاکلہ سے باہر آکر سوچ سکے۔ وہ کس چیز کو اس کی اصل صور ت میں دیکھ سکے۔