Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
1دسمبر 2010
آزادی ہند (1947)سےپہلےمسلمانوں کے دو بڑے لیڈرتھے ، مولانا ابوالکلام آزاد اور مسٹر علی جناح ۔ مولانا آزاد متحد ہندوستان کے حامی تھے اور مسٹر جناح منقسم ہندوستان کی وکالت کر تے تھے ، لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ دونوں ہی گہری سیاسی بصریت (Political Wisdom)سے خالی تھے۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے اُس زمانے میں ایک سیاسی فارمولا پیش کیا تھا جو آزاد کا فارمولا کے نا م سے مشہور ہوا۔ اِس کا خلاصہ یہ تھا کہ آزادی کے بعد ہندوستان میں جو پارلیمنٹ بنے، اس میں چالیس فی صد نمائندگی ہندوئوں کی ہو اور چالیس فیصد نمائندگی مسلمانوں کی ۔ بیس فیصد سیٹیں اقلیتیوں کو دی جائیں ۔ دوسری طرف مسٹر محمد علی جناح تھے ۔ انھوں نے چودہ نکاتی فارمولا پیش کیا تھا ۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہا آزادی کے بعد جو قومی حکومت بنے، اس میں مرکزی حکومت کے اختیارات کم ہوں اور ریاستوں کو اٹانمی (Autonomy)دی جائے۔
یہ دونوں فارمولے بلاشبہ سیاسی بصیرت سے خالی تھے ۔ اِس کے لیے یہ معلوم تھا کہ آزادی کے بعد ہندوستان میں جمہوری نظام بنے گا ، اور کسی بھی ملک میں جمہوری نظام اِس طرح کے فارمولوں پر نہیں بناتے ، بلکہ وہ ووٹروں کی تعداد پر بنتا ہے ۔