Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
25دسمبر 2010
کئی سال کے فکری اختلاف کے بعد میں جماعت اسلامی سے الگ ہو گیا۔ علاحدگی سے کچھ پہلے کا واقعہ ہے ۔ علی گڑھ میں میری ملاقات جماعت اسلامی کے رکن ڈاکٹر عبد الحق انصاری سے ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ آپ کو جماعت نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ انھوں نے کہا کہ مجھے بھی جماعت سے کچھ اختلاف ہیں ، لیکن میں اور آپ جماعت اسلامی سے الگ ہو کر ملاحدہ کوئی مشن نہیں چلا سکتے ۔ ۔میرے تمام جاننے والے اُس وقت اِس قسم کی بات کہتے تھے ۔ لیکن مجھ پر اُس زمانے میں ایک دیوانگی طاری تھی ۔ چناں چہ میںلوگوں کے مخالفانہ شور کے باوجود جماعت اسلامی سے الگ ہو گیا۔
یہ علاحدگی میرے لیے ایک عظیم تجربہ بن گئی ، وہ یہ کہ اگر آدمی کے پاس سچائی ہے تو ذاتی نااہلی کے باوجود اس سے مشن کو فروغ حاصل ہوگا۔ دوسرے لوگ اُس سے وابستہ ہو کر اس کی نا اہلی کی تلافی بن جائیں گے۔ میرے پچھلے پچاس سال کے تجربات اِس کی واضح تصدیق ہیں ۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ میرے اندر ایک مشن چلانے کی صلاحیت نہیں ، مگر اِسی کے ساتھ مجھے یقین تھا کہ میں سچائی پر ہوں، اِس لیے میں مسلسل دعا ء کرتا تھا کہ خدایا ، تو میری کمیوں کی تلافی کا انتظام فرما۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری اِس عاجزانہ دعاا کو قبول فرمایا اور مسلسل میرے مشن کے لیے ایسے افراد دیے جو میری نا اہلی کی تلافی بن گئے ۔ مثال کے طور پرثانی اثنین خاں کو کھڑا کر دیا۔ عربی زبان میں میری کتابوں کی اشاعت کا کام اللہ تعالیٰ نے داکٹر ظفر الاسلام خاں سے لیا ۔ اب مغربی دنیا میں انگریزی کتابوں کی اشاعت کے لیے اللہ تعالیٰ نے خواجہ کلیم الدین (مقیم امریکا ) کو متحرک کر دیا ہے ۔