Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
8دسمبر 2010
میرے بڑے لڑکے ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں 1966میں تعلیم کے لیے قاہرہ گئے۔ اُس وقت ان کی عمر 18سال تھی ۔ مولانا عبد الباری ندوی (وفات:1976)کو اِس سے اختلاف تھا۔ اُس زمانے میں میرا ایک مضمون الجمعیۃ میں چھپا تھا۔ اس کا عنوان ‘‘دیوارقہقہہ‘‘تھا۔ مولانا عبد الباری ندوی نے کہا کہ ۔انھوں نے بیٹے کو دیوارِ قہقہہ پھندوادی ۔ قاہرہ تو مقہورہ ہے۔
مولانا عبد الباری ندوی کا یہ تبصرہ پہلی بار مجھے ندوہ کے ایک طالبِ علم نے بتایا۔ میں نے اس کو کہا کہ -ظفر الاسلام ایک ذہین نو جوان ہیں ، وہ ماحول کا اثر قبول نہیں کریں گے۔ مگرعملاً برعکس نتیجہ نکلا۔ آخر کار ظفر الاسلام الاخوان المسلمون کی انتہا پسند ی سے متاثر ہوئے اور ان کی سوچ آخری حد تک منفی سوچ بن گئی جو اب تک قائم ہے ۔