Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
22مارچ 2010
)آپ)مولانا کی کتابوںکو پڑھنے سے پہلے میں نے بیسوی صدی کے سبھی بڑے بڑے علماء کی کتابوں کا مطالعہ کیا ، مفصل طور پر ۔ آپ کی اور دوسرے لوگوں کی کتابوں میں جو واضح فرق ہے ، وہ یہ ہے کہ سبھی کی تحریروں کا مرکزی نکتہ سیاست معلوم ہوات ہے ، جبکہ آپ کی تحریروں کا خلاصہ ایک لفظ میں ’’دعوت الی للہ ‘‘ ہے ۔ آپ کی تحریر یں کسی بھی مسئلہ کا جو حل بتایا گیا ہے وہ دعوت کہ مرکزی نکتہ (Central Point)بنا کر ۔ اور آپ کے بتاگئے حل کے علاوہ کوئی دوسرا قابل عمل بھی نہیں ۔ دوسرے کے یہاں واضح طور سے معلوم ہواتا ہے کہ وہ ان لوگوں نے کچھ آیتوں (مثلاً ، جہاد، بمعنی قتال ) کو لیکر اس کو تعمیم ()کیا ہے ۔ جبکہ آپ کی تحریر میں پورے قرآن کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ سبھی کی تحریر پڑھ کر اسلام فخر کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ جبکہ آپ کہ ہاں اسلام عجز کی چیز معلوم ہوئی ۔ لوگ کہتے ہیں کہ رسالت کے بارے میں یہاں اسلام عجز کی چیز معلوم ہوئی۔ لوگ کہتے ہیں کہ رسالت کے بارے میں ان کا موقف (Standpoint) ہے۔ جبکہ رسول ؐکی زندگی کا ماڈرن ورلڈ میں جو Relevanceآپ نہ معلوم کیا ہے کسی نے نہیں یہ دریافت کیا ہے ۔ رسول اللہ کے بارے میں جو آپ کی تحریر ہے وہ اسوۃ حسنہ کی تصویر معلو م ہوتی ہے ۔ سب بڑی بات یہ کہ جو آپ کی تحریر میں وضوح (Clarity)ہے وہ کہیں نہیں ۔ آپ کی تحریک میں تضاد نہیں۔ آپ کی تحریر مثبت فکر پیدا کرنے کے لیے ایک Blueprintہے۔ (ابو الحکم حمد دانیال ، پھلواری شریف ، پٹنہ ، بہار)