Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
28اگست 2010
مولانا فیاض الدین عمری (گل برگا) سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ۔ میں نے کہا کہ تقریباً تمام عربی تفسیروں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ : آیۃ الصبر منسوخۃ بآیۃ القتال ۔ مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے ۔ صبر کبھی منسوخ نہیں ہوتا ، حتی کہ دوران ِ قتال بھی نہیں ۔ میں نے کہا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : قالواھم حتی لا تکون فتنۃ۔ اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ منسوخ ہونے والی چیز قتال ہے نہ کہ صبر اِس آیت کے مطابق ، جب فتنہ (شرک جارح) نہ رہے تو قتال بھی نہ رہے گا ۔ تاریخ کے روایتی حضرت عمر کے زمانے میں فتنہ ختم ہو گیا ۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے کہاتھا : قد قعلنا ۔ اس لیے اس کے بعد قتال ایک عمومی حکم کے طور پر ختم ہو گیا۔ مفسرین کو یہ لکھنا چاہے تھا کہ : آیات القتال نسخت بعد نھایۃ الفتنۃ ۔
میں نے کہا کہ کی منسوخ قرار دینا کوئی بات نہیں ۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ تبعاً دعوت کو بھی منسوخ قرار پا گئی ۔ اس تفسیر سے پوری جو چیز منسوخ تھی۔ وہ بن گئی اور جو چیز تھی، وہ منسوخ ہو رکر رہ گئی ۔