Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
20جولائی 2010
مفتی محمد اطہر شمسی (کیرانہ ) نے بتایا کہ وہ ایک ہندو ڈاکٹر کے یہاں انگریزی ترجمہ قرآن لے کر گئے ۔ ہندو ڈاکٹر غصہ ہو گیا اور قرآن کا ترجمہ لینے سے انکار کر دیا۔ بعد کو معلوم ہوا کہ ایک صاحب اُس ڈاکٹر کے پاس گئے جو بطور خود دعوتی کام کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کو ایک منتر دینے کے لیے آیا ہوں ۔ اگر آپ اِ س منتر کو لے لیں تو آپ جنت میں جائیں گے ۔ ڈاکٹر نے پوچھا کہ وہ منتر کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ وہ منتر ہے : لاالہ الاللہ محمد رسول للہ۔ یہ سن کو وہ ڈاکٹر غصہ ہو گیا اور ان کو بھگا دیا ۔ اِسی تجربے کی بنا پر وہ اطہر شمسی صاحب سے بھی غصہ ہو گئے ۔
میں نے اطہر صاحب سے کہا کہ دعوت کے پہلے ایک پری دعوت (Pre-Dawah)ہے، اور وہ ہے تالیف ِ قلب ۔ آپ تالیف قلب کے ساتھ دعوت کا کام کیجئے ، آپ کے ساتھ ان شاء للہ کوئی مسئلہ پیش نہیں آئے گا۔ اِس کا بعد وہ ایک کالج کے ہندو پرنسپل سے ملے۔ وہ اجازت لے کو اس کے کمرے میں داخل ہو ئے اور سر جھکا کر کہا کہ آپ مجھے اپنی بلسنگ (Blessing)دیجئے ۔ میں پیس اور اسپریچویلیٹی کا کام کر رہا ہوں۔ اِس میں بھی آپ کی بلسنگ کی ضرورت ہے۔ مذکورہ پرنسپل متاثر ہو گیا اور اس نے کہا کہ بیٹھیے ۔ کچھ دیر گفتگو کے بعد اطہر شمسی صاحب نے قرآن کا انگریزی ترجمہ پرنسپل کو دیا۔ پرنسپل بہت خوش ہوا اور اس نے کالج کے دوسروں ٹیچروں کو بلا یا اور کہا کہ یہ ایک اسپریچول تحفہ تمھارے لیے لائے ہیں ، اِس کو لے کر پڑھو۔