Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
13جولائی 2010
عام طور پر ہمارے علماء مشرقین کے بارے میں مفنی ذہن رکھتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں وہ بہت بڑے فائدے سے محروم رہ گئے ۔ علماء کا حال یہ ہے کہ وہ مطالعہ کا ایک ہی طریقہ جانتے ہیں اور وہ اعتقادی طریقہ ہے ۔ اِس کے بر عکس ، مشرقین کا نقطہ آغاز عقیدہ نہیں ہے ۔ وہ خالص علمی اور موضوعی (Objective)اندازہ میں اسلام کا اور اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اِس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ مشرقین ایسی گہری حقیقتوں تک پہنچ جاتے ہیں جو عقیدت مندانہ ذہن کو لے کر مطالعہ کرنے والوں سے مخفی رہتی ہیں ۔ میں اپنے بارے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اسلام کے بارے میں بہت سی بڑی بڑی حقیقتوں ک سراغ (Clue)مشرقین کی کتابوں کے ذریعے دریافت کیا ہے ۔ چوں کہ میرے اندر مشرقین کے بارے میں منفی ذہن نہیں تھا، اس لیے میں نے ان کی تحقیقات کو سنجیدہ انداز سے لیا اور پھر غور کر تے کرتے بہت بڑی بڑی حقیقتوں تک پہنچ گیا ۔ اس معاملے کی مثالیں میری کتابوں میں بار بار دیکھی جاسکتی ہیں ۔ مثال کے طور پر آرنلڈ ٹائن بی کے ایک ریمارک تو حید کے انقلابی پہلو کو دریافت کرنا۔ اِس کی تفصیل میری کتاب ’’اسلام دور جدید کا خالق ‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہے ۔