Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
27اکتوبر 2010
بچپن میں جب میں اپنے گائوں (Badharia)میں رہتا تھا ۔ اُ س زمانے کا ایک واقعہ یاد آتا ہے ۔ میری عمر غالباً 5یا 6سال کی تھی۔ میرے باپ کا انتقال ہو چکا تھااور میری حیثیت ایک یتیم بچہ کی تھی۔ ہمار ے خاندان میں ایک خاتو ن تھیں جن کی شادی ایک ڈپٹی کلکٹر سے ہوئی تھی ۔ وہ اپنے کو اونچا سمجھتی تھیں ۔ا یک دن میں اُن کے دو بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔ کھیل کے دوران میرے ہاتھ سے اُن کے ایک بچے کو چھوٹ لگ گئی ۔ اس نے جا کر اپنی ماں سے شکایت کی۔ ماں آئیں اور غصہ ہوا کر مجھ سے کہا : تیں مورے بٹوا کے جو گاں رہے (تم میرے بیٹے کے برابر )
میری تحریروں کو پڑھ کر جو لوگ غصہ ہوتے ہیں، اُن کا معاملہ تقریباً یہی ہے ۔ موجود ہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے قومی اکابر میں جیتے ہیں ۔ میر ی تحریروں میں اِن قومی اکابر پر تنقید ہوتی ہے ۔ وہ اِن تحریروں کو پڑھ کر بھڑک اٹھتے ہیں۔ اُن کے اندر وہی نفسیات جاگتی ہے جو گائوں کی مذکورہ خاتون میں پیدا ہوئی تھی۔ گویا کہ وہ کہتے ہیں -تم ہمارے اکا بر کے برابر ہو۔