Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
9مارچ 2010
بہت پہلے کی بات ہے ۔ ایک بات میں کشمیر گیا۔ ایک صاحب تھے جو شہر کے باہر رہتے تھے۔ وہاں ان کے باغات تھے۔ انھون نے میرے لیے شام کے کھانے کا اہتمام کیا۔ نہایت عمدہ قسم کا قورمہ اور پلائو پکوایا۔ شام کو کھانا جب دستر خوان پر رکھا گیا تو اس کا رنگ اور اس کی خوشبو بتا رہی تھی کہ وہ خصوصی اہتمام کے ساتھ تیار کیا گیا ہے ۔ مگر مجھے اِس قسم کے مرغن کھانوں کا کوئی ذوق نہیں ۔ دستر خوان پر اِس کے ساتھ تازہ بادام اور شہد رکھا ہوا تھا ۔
میں کچا بادام اور شہد کھانے لگا۔ صاحب مکان بار بار کہتے تھے -یہ قورمہ لیجئے، یہ پلائو لیجئے ، یہ فلاں چیز لیجئے ، یہ خاص طور پر میں نے آپ کے لیے تیار کرا یا ہے، مگر میں بدستور بادام اور شہد کھا تا رہا،ا نھوں نے کہا کہ کل جب آپ جائیں گے تو بادام اور شہد ہم آپ کو دے دیں گے ، اس کو آپ اپنےساتھ لے جائیے گا ، اِس وقت تو آپ یہ کھانے کی چیز یں کھالیے ۔ مگر ان کے بار بار اصرار کے باوجود میں نے نہیں کھایا ، چناں چہ وہ غصہ ہو گئے اور اگلے دن جب میں وہاں سے روانہ ہوا تو انھوں نے ساتھ لے جانے کے لیے بادام اور شہد نہیں دیا۔
اِس واقعے کے بعد میں نے سوچا کہ خدا بھی اُن انسانون کے ساتھ یہی معاملہ کرے گا جو اس کی سب سے اعلیٰ نعمت جنت کو چھوڑ کر دوسری دوسری چیزوں کے پیچھے دوڑتے ہیں ۔