Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
15اپریل 2010
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے ۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں : إذا اقترب الزمان لم تكد رؤيا المؤمن تكذب ( كتاب التعبير ، باب القيد فى المنام )یعنی جب قیامت قریب آجائے گی تو مومن کے خواب سچے ہونے لگیں گے۔
میں جب اِس حدیث پر غور کرتا ہوں تو، مجھے اِس حدیث میں ایک بہت بڑی بات معلوم ہوتی ہے ، غالباً اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت سےپہلے اللہ تعالیٰ کو یہ مطلو ب ہوگا کہ ادخال کلمہ کے لیے اعلیٰ ایمان کا ایک گروہ بنے، لیکن وہ زمانہ فتنہ دھیما ء کا زمانہ نہ ہوگا ، اِس بنا پر یہ بات سخت مشکل ہو جائیگی کہ لوگ صرف نظر ی عوت سے متاثر ہو کر مظبوط گروہ کی صورت مین بھی مجتمع ہو جائیں ، اس بنا پر ایسا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کو جن لوگوں کے دل میں نظر آئیگا ، انکو نظری دعوت کے علاوہ خواب دکھائے جائیں گے ، یہ خواب ان لوگوں کے لیے تائید ِ موید کے ہم معنی ہو نگے ، جو نظری طور پر دعوت سے متفق ہو ئے ہوں۔
غور کر نے سے میری سمجھ میں آتا ہے کہ غالباً الرسالہ مشن کے تحت بننے والی ٹیم اس کی مصداق ہے، الرسالہ کا پیغام موجودہ زمانے میں ایک اجنبی پیغام ہے ۔ فتنہ دھیماء کی بنا پر اس کو سمجھنا بے حد مشکل ہے ۔ اگر کوئی شخص لٹریچر کے مطالعے سے اس کی صداقت کو سمجھ جائے تب بھی اس کے اندر پختہ یقین پیدا نہیں ہوتا ۔ اِس بنا پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے لوگوں کو خواب دکھائے جاتے ہیں ۔ ہماری ٹیم میں تقریباً ہر ممبر کے ساتھ ایسا ہی ہوا ہے ۔ اگر یہ لوگ خواب نہ دیکھتے تو صرف لٹریچر کے مطالعے سے وہ مضبوطی کے ساتھ اِس مشن میں شامل نہیں ہو سکتے تھے۔