Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
25مئی 2010
حدیث میں آیا ہے کہ : عِصابتان من أمتى أحرَزهما اللّه من النار : عصابة تغزو الهند وعصابة تكون مع عيسى بن مريم ( سنن النسائى ، كتاب الجهاد )
اِ س حدیث کے بارے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ دو گروہ کو ن ہیں ۔ مولانا فیاض الدین عمری کا خیال ہے کہ اِس حدیث میں پہلے گروہ سے مراد غالباً عمری دعاۃ کا گروہ ہے جو تقریباً 15سال سے ہندوستان میں خاموش دعوتی کام کر رہا ہے ۔ اور دوسرےگروہ سے مراد غالباً سی پی اسی کا گروہ ہے جو باقاعدہ صور ت میں 2001سے کام کر رہا ہے ۔
اِ س سلسلے میں دوسرا سوا ل یہ ہے کہ حدیث میں ابنِ مریم سے کیا مراد ہے ۔ آج صبح فجر کی نماز کے لیے میں اٹھا تو اچانک میرے ذہن میں آیا کہ اِس معالے میں غالباً وہی بات صحیح ہے جو بدنام غلام احمد قادیانی نے کہی تھی ، یعنی اِس حدیث مین عیسیٰ بن مریم سے مراد مثیل عیسی یا مثیل مسیح ہین ۔ یعنی جس طرح سے اسرائیلی سلسلہ نبوت میں ایک آخری شخص پیدا ہوا، اِس طرح اسماعیل سلسلے میں بھی ایک آخری شخص پیدا ہوگا۔ جو امت محمدی میں مسیح جیسا کردار ادا کرے گا۔ میرا گمان ہے کہ مرزا غلام احمد کی یہ بات اصولاً درست تھی، لیکن انھوںنے ایک شدید غلطی کر ڈالی ، وہ یہ کہ انھوں نے یہ دعویٰ کرد یا کہ میں مسیح مولود ہو ں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ختم نبوتِ کے بعد نہ کوئی مسیح آسمان سے اتنے والا ہے اور نہ کسی شخص کے لیے یہ درست ہے کہ وہ اپنے بارےمیں مسیح ہونے کا دعویٰ کرے۔ اِس معاملے میں اصل اہمیت رول (Role)کی ہے نہ کہ دعوتی کی ۔ حقیقت یہ ہے کہ خاتم النبین کے بعد اب براہ راست نزولِ وحی کا سلسہ ختم ہو چکا ہے ۔ اب صرف الہام یا خواب ہے نہ کہ وحی۔ دونوں میں یہ فرق ہے کہ وحی حقیقی ہوتی ہے اور الہام یا خواب صرف ملی ۔