Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29نومبر 2010
جماعت اسلامی ہند سے میں پندرہ سال تک وابستہ تھا۔ آخری چھ سال کے درمیان میں رام پور می تھا۔ اُس زمانے میں ، میں جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کا رکن تھا ۔ میں دیکھتا تھا کہ لوگ اکثر دیر میں آتے ہیں ۔ میٹنگ کا جو وقت مقرر ہوتا تھا، میں واحد شخص تھا جو ٹھیک ٹائم پر وہاں پہنچتا تھا۔ تمام لوگ بشمول امیر جماعت دیر میں آتے تھے۔ یہ تاخیر ہمیشہ معمول اسباب سے ہوتی تھی ، اُس وقت میں اکثر سخت انداز میں لوگوں کی ہیمرنگ کر تاتھا ۔ میرا کہنا یہ تھا کہ آپ لوگ اگر ٹائم کی پانبدی نہیں کر سکتے تو آپ کوئی بھی بڑا کام نہیں کر سکتے۔
اس کا سبب کیا ہے ۔ ٹائم کی پابندی نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی غیر متعلق باتوں کے تقاضے سے مغلوب (Succub)ہو جائے۔یہ کمزوری ویک پرسنالٹی (Weak Personality)بناتی ہے اور دھیرے دھیرے وہ بڑے نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جماعت اسلامی شرو ع میں اپنے آپ کو خالص اصولی جماعت بتاتی تھی ۔ پھر محمد مسلم صاحب (ایڈیٹر دعوت )جماعت اسلامی ملی تقاضوں کی طرف جھکنے لگے ۔ یہ جکھائوں بڑھتا چلا گیا ، یہاں تک کہ اب جماعت اسلامی صرف ایک ملی جماعت بن چکی ہے ۔ موجودہ جماعت اسلامی اور مسلم لیگ اور جمعیۃ العماء میں کوئی فرق نہیں ۔ یہ انتہائی انجام صرف اِس لیے ہوا کہ جماعت اسلامی ملی تقاضوں کے مقابلے میں سخت رویہ اختیار نہ کر سکی۔
نومبر 2010میں جماعت اسلامی ہندکا ایک کل ہند اجتماع دہلی میں ہوا ۔ اِس موقع پر جماعت اسلامی کے کچھ ارکان مجھ سے ملنے کے لیے آئے۔ میں نے کہا کہ اب تو جماعت اسلامی ایک مردہ جماعت بن چکی ہے ۔ آپ کب تک اپنے آپ کو اِس لاش سے باندھے رہیں گے۔