Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
10مارچ 2010
2جون 2009کٹھیار سے بذریعہ ٹرین دہلی آرہا تھا ۔ میرے پڑوس میں ایک انڈین فوجی بیٹھا ہوا تھا۔ وہ اپنی فیملی کے ساتھ دہلی میں کسی زیارت کے لیے جا رہا تھا ، اس سے باتیں ہوتی رہیں ، دورانِ گفتگو میں نے اس سے پوچھا کے آپ کی ڈیوٹی آجکل کہا لگی ہے ، اس ن ے کہا کہ کشمیر میں ، میں نے کہا کہ آپ وہاں کے کچھ حالات سنائیے ۔ اس نے کہا کہ میں ایک مرتبہ رائونڈ پر تھا۔ ایک اسکول میں ہم لوگوں کا جانا ہوا ۔ وہاں طلبہ سے ہم نے امن شانتی پر گفتگو کی، گفتگو کے دوران ہم نے طلبا ء سے سوال کیا کہ بتائو کشمیر کہاں واقع ہے ؟ طلبا نے جواب دیا پاکستا ن میں ۔
اس فوجی نے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ مسلمان بہت شریر ہوتے ہیں اور خواہ مخواہ مسائل کھڑے کر تے ہیں وغیرہ۔
پھر میں نے اُن سے دورانِ گفتگو دہشت گردی ، حب الوطنی ، مساواتِ انسانی اورع موجودہ مسلمانوں کی غلط ذہنیت اور تشدد پسندی کی تغلیط کی اور خالص اسلامی ذہنی کیا ہوتا ہے ، اس سلسلہ میں وضاحت کی تو وہ فوراً اپنی بیوی کے پاس اٹھ کر گیا اور کہا آج مجھے اپنا ایک بھائی ملا ہے اور اپنے بچہ کو اٹھا کر لایا اور کہا کہ اپنے چچا کو سلام کرو۔ میں نے اسکو قرآن اور ستیہ کی کھوج والا بک لیٹ پیش کیا وہ خوشی سے قبول کرتے ہوئے اسکو اپنے ماں باپ کو بتانے اور یہ پڑھکر سنانے لگا۔ ۔اس نے میرا فون نمبر لیا اور کہا کہ میں آپ کے گھر آکر آپ کے پاس کچھ دن رہ کر گیان حاصل کروں گا ۔ (فیاض الدین عمری ، گل برگا ، کر ناٹک)