Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
18دسمبر 2010
میرے چھوٹے بھائی عبد المحیط خاں (انجینئر) کا انتقال 31جنوری 2010کو ہو گیا۔ ان کے یہاں دو لڑکیاں پیدا ہوئی ، مگر کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا ۔ انھوں نے دو مکان بنوایا تھا ۔ ایک فیض آباد میں اور ایک علی گڑھ میں ۔ وفات کے کچھ پہلے انھوںنے تحریر ی وصیت نامہ لکھا کہ میرے بعد علی گڑھ کا مکان فروخت کر دیا جائے اور اس کا پیسہ شرعی طور پر وارثوں میں تقسیم کر دیا جائے ۔ انھوں نے دیوبند کے دار الافتا سے اِس کا فتویٰ منگوایا ، ان کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ عابدہ نے گھر کو فروخت کر دیا اور ٹیلی فون پر مجھ کو بتا یا کہ آپ کا حصہ ساڑھے 6لاکھ روپیہہے ۔ اس کو آپ کے پاس بھیجنا ہے ۔ میںنے منع کیا، مگر انھوں نے اصرار کیا۔ پھر میں نے کہا کہ اِس رقم کو آپ میری طرف سے سی پی ایس میں دے دیں اور اس کو انگریزی ترجمہ کی تقسیم میں استعمال کیا جائے ۔ چناں چہ انھوںنے ساڑھے چھ لاکھ روپیے کا بینک درافٹ بھیجا۔ یہ درافٹ میں نے سی اپی ایس کو دے دیا اور کہا کی اس کو انگریزی ترجمہ قرآن کی تقسیم میں استعمال کیا جائے ۔ اگلی رات کو میری لڑکی ڈاکٹرفریدہ خانم نے خواب دیکھا۔ انھوںنے دیکھا کہ عبد المحیط خاں آئے ہیں۔ وہ بہت صاف کپڑا پہنے ہوئے ہیں اور بہت مطمئن نظر آتے ہیں ۔ انھوں نے فیردہ سے کہا کہ تم لوگوں نے جو کیا، اس پر میں بھی بہت خوش ہوں اور میری بیوی عابدہ بھی بہت خوش ہیں ۔ فریدہ نے اپنا یہ خواب ٹیلی فون پر عابدہ کو بتایا جو کہ اِس وقت بمبئی میں اپنی لڑکی کے ساتھ ہیں۔ عابدہ اِس خواس کو سن کو بہت خوش ہوئیں ۔