Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30جولائی 2010
آج دہلی کے اردو روزنامہ راشٹریہ سہارا میں بیر سٹر آصف علی کے حالات شائع ہوئے ہیں ۔ نئی دہلی کی آصف علی روڈ ان کی ایک یادگار ہے۔ بیرسٹر آصف علی دہلی کے کوچہ چیلان میں 1888میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم کے بعد وہ لندن گئے اور وہاں کے بیرسٹری کی ڈگری حاصل کی۔ واپسی کے بعد وہ انڈیا کی تحریک آزادی میں سر گرم طور پر شامل ہو گئے ۔ انھوں نے ایک ہندو خاتون اروناگنگولی سے شادی کر لی ۔ وہ غیر معمولی صلاحیتوں کے آدمی تھے۔ آزادی کے بعد وہ وزیر اور سفیر اور گورنر جیسے عہدوں پر فائز رہے ۔ میرے علم کے مطابق ، وہ اپنے زمانے کے قابل ترین مسلمان کی حیثیت رکھتے تھے، مگر آخر عمر میں وہ مایوسی کا شکار ہو گئے ۔ ہندو بیوی سے ان کی طلاق ہو گئی ۔ آزادی کا سنہرا خواب کی سنہری تعبیر نہیں نکلی۔ چناں چہ آخر میں اُن پر دل کا دور پڑا اور اِسی حالت میں 2اپریل 1953آسٹریلیا کے برن اسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا۔ انگریزی زبان پر ان کوکامل عبور حاصل تھا۔ لیکن اپنے دور کے دوسرے مسلمانوں کی طرح ان کے قلم اور زبان میں انگری حکومت کے لیے بے انتہا نفرت تھی ‘‘۔ میرے علم کے مطابق، بیسویں صدی کےک بہت قابل مسلمانوں کے لیے جو چیز ہلاکت کا سبب بن گئی ، وہ یہی نفرت کا فلسفہ تھا ۔یہ مسلمان اگر نفرت سے بلند ہو کر اپنی شخصیت کی تعمیر کرتے تو وہ بہت بڑے بڑے تعمیری کام کر سکتے تھے ۔ مگر سب کا یہ حال ہوا کہ وہ نفرت کےک منفی قبرستان میں دفن ہو گئے۔