Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
15اکتوبر 2010
میرے بیٹے ڈاکٹر ثانی اثنین خاں کے یہاں تین لڑکیوں کے بعد 1991میں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اُس کا نام عدنان رکھا گیا ۔ یہ ایک نفسیاتی بات ہے کہ عام طور پر ہر داد ا کو اپنے پوتے سے غیر معمولی تعلق ہوتا ہے ، حتیٰ کہ اپنے بیٹے اور بیٹیوں سے بھی زیادہ ۔ اِس بنا پر فطری طور پر ایسا ہوا کہ جب مجھ کو عدنان کی پیدائش کے بارے میں بتایا گیا کہ میرے اندر داد ا والی نفسیات جاگ اٹھی ۔ مگر میرا حال یہ ہے کہ میں شعوری طور پر اپنے آپ کو ہر ڈسڑیکشن سے بچاتا رہا ہوں ۔ عدنان کو دیکھنا بلاشبہ میرے لیے ایک ڈسٹریکشن تھا، مگر میں نے اپنے مزاج کے تحت یہ طے کیا کہ مجھے عدنان کو دیکھانہیںہے ۔ کیوں کہ اگر میں عدنان کو دیکھوں تو فطری طور پر دادا والی نفسیات پیدا ہو جائے گی اور اس کی طرف میرا میلان بڑھ جائے گا۔ اب عدنان کی عمر تقریباً 20سال ہو چکی ہے ۔ لیکن میں نے ایک بار بھی اس کے چہرے کو پوری طرح نہیں دیکھا ۔ جب عدنان چھوٹا بچا تھا ، اُس وقت سے لے کر اب تک وہ بار بار میرے کمرے میں آیا ہے، لیکن میں نے کبھی اس کے چہرے کو غور سے نہیں دیکھا۔ میر ی بیوی سابعہ خاتون (وفات:2006)کو بچپن ہی سے عدنان کے غیر معمولی تعلق تھا۔ میں دیکھتا تھا کہ وہ بچپن سے عدنان کے ہاتھ پیر میں تیل ملتی تھیں ۔ ایسا کرتے ہوئے وہ عدنان کے پائوں کو اٹھا کر چومتی تھیں۔ لیکن میں نے عدنان کو کبھی گود بھی نہیں لیا اور نہ کبھی عدنان کے لیے تحفہ لایا۔