Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
22اکتوبر 2010
رامش صدیقی کومیں نے مشورہ کے لیے بلایا تھا ۔ آج وہ اور ان کی ماں مسلمہ صدیقی میرے پاس آئے۔ میں نے رامش صدیقی سے کاہ کہ مجھے معلوم ہواہے کہ آپ دوستوں کے مشورہ پر چل رہے ہیں ۔ یہ باکل غلط ہے ۔ میںنے کہا کہ میں اپنے تجربہ کی روشنی میں مشورہ دیتا ہوں کہ آپ دوستوں کو بالکل چھوڑ دیجئے ۔ آپ کی عمر 25سال ہو چکی ہے ۔ ابھی تک ااپ نے کوئی کام نہیں کیا ۔ آپ کو فوراً کوئی کام کرنا ہے۔ مگر میری قطعی رائے ہے کہ آپ نے تو سیاست میں جائیں اور نہ کوئی بزنس کریں ۔ آپ کو صرف جاب کرنا ہے ۔ شروع میںجاب میں پیسہ کم ملے گا، لیکن دھیرے دھیرے زیادہ پیسہ ملنے لگے گا ۔ میں نے اپنی بات تکرار کے ساتھ اور شدت ک ساتھی کہی۔ لیکن ایسا محسوس ہوا جیسے رامش کے اوپر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے ۔ رامش کی ماں مسلمہ صدیقی میرے کمرہ میں بیٹھی ہوئی تھیں ۔ انھوں نے پوری بات سنی۔لیکن انھوں نے میری حمایت میں ایک لفظ نہیں کیا۔ اس پور ے معاملہ کی گواہ فریدہ خانم بھی ہیں جو وہاں موجود تھیں۔ رامش صدیقی میری بات کا کوئی جواب دیے بغیر چلے گئے ۔ جیسے کہ دن کو میرے مشورہ کو قبول نہیں کرنا ہے ۔
مجھے معلوم ہوا کہ رامشن اپنے ایک دوست کی شرکت میں ایک ہوٹل کھولنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ بینک سے لون (Loan)لینا چاہتے ہیں ۔ اگر وہ اپنے اس منصوبہ میں کامیاب ہو جائیں تو بہت اچھی بات ہے ۔ لیکن میرا پوری زندگی کا تجربہ ہے کہ اس قسم کا بزنس کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ بہر حال میںنے اپنی بات چیت میں ان سے کہہ دیا کہ اگر آپ میرا مشورہ نہ مانیں تو آپ سے اب میرا کوئی تعلق نہیں ۔ اگر وہ خدا نخواستہ نا کام ہوتے ہیں تو ان کو ہماری فیملی سے کوئی مدد کی امیدنہیں رکھنی چاہیے ۔