Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29ستمبر 2010
بابری مسجد کے بارے میں عدالتی فیصلہ 30ستمبر 2010کو آنے والا ہے ۔ تمام لوگ اِس انتظار میں ہیں کہ فیصلہ آئے تو فوراً وہ اس کے بارے میں ایک بیان جاری کریں ۔ میںنے ایک اخباری نمائندے سے کہا کہ مجھے اس سلسلے میں کوئی انتظار نہیں ۔ میری اِس بار ے میں ایک ہی رائے ہیں ، وہ یہ کہ مسلمان اِس مسئلے سے اپنے آپ کو الگ کر لیں ۔ اِس کے بعد میدان میں تین فریق باقی رہتے ہیں -حکومت ، عدالت، اور ہندو تنظیم ۔ یہ لوگ جو چاہیں ، اِس بارے میں فیصلہ کر یں۔
اگر مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ بابری مسجد ایک تاریخی مسجد تھی، اس کو ایک تاریخی یادگار کے طور پر باقی رکھنا چاہیے تو مسلمان ری لوکیشن (Relocation)پر راضی ہوجائیں ،یعنی و ہ مقام ِ نزاع کے دور اُسی طرز کی ایک مسجد بنائیں اور اس کا نام بابری مسجد رکھ دیں ۔ عرب ممالک میں اِس طرح مسجد کی ری لوکیشن کا واقعہ بار بار ہوا ہے ۔